بجٹ کے بعد وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کررہے ہیں

Rate this post

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا وفاقی بجٹ پیش کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا ہے۔
تقریباً 50 فیصد خسارے کے اس بجٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن سے چینی، کوکنگ آئل، سیگریٹ، گیس اور گاڑیوں سمیت متعدد اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔

وفاقی بجٹ پیش: 11 کھرب روپے کے نئے ٹیکسز عائد، گھی، چینی، گیس اور گاڑیاں مہنگی
مجموعی حجم 70 کھرب 22 ارب روپے ہے، دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے برقرار رہے گا، گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافے کی تجویز

وفاقی بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 55 کھرب 55 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد یعنی 11 کھرب 20 ارب روپے زیادہ ہے۔
اس سلسلے میں گزشتہ برس کی نسبت بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں 3 کھرب 46 ارب روپے اور 7 کھرب 73 ارب روپے بلواسطہ ٹیکس کی مد میں بڑھائے گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ 20-2019 کے وفاقی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 4 کھرب 77 ارب روپے کے اضافی سیلز ٹیکس، 3 کھرب 63 ارب روپے کے اضافی انکم ٹیکس، 2 کھرب 65 ارب روپے کی اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور 99 ارب روپے کی اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیاں عائد کی جائیں گی۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں گھی، خوردنی تیل ، چینی ، دودھ ، خشک دودھ ، کریم مہنگی کر دی گئی، سیمی پراسیس اور پکے ہوئے چکن، مٹن، بیف، مچھلی پر بھی سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ گاڑیاں ، سیمنٹ ، ماربل، ایل این جی، سی این جی اور سگریٹ بھی مہنگے کر دیے گئے۔
پھلوں کے جوس، سیرپس، اسکوائشز، کولڈ ڈرنکس پر ٹیکس بڑھا نے کی تجویز جبکہ سونا ، چاندی اور ہیروں کی درآمد پر بھی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔

تبصرے
Loading...

اس ویب سائٹ پر آپ کے تجربے کو بہتر اور سہل بنانے کے لیے کوکیز استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر آپ کوکیز کے استعمال سے مطمئن ہیں تو قبول ہے کہ بٹن پر کلک کیجئے قبول ہے