بے نامی اثاثے رکھنے پر 5 سال قید ہوسکتی ہے، اعزازی چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی

Rate this post

گھر سمیت اپنے اثاثوں کی ملکیت کسی اور کے نام پر رکھنا بے نامی ہے، جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو— فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے اعزازی چیئرمین شبرزیدی نے کہا ہے کہ گھر سمیت اپنے اثاثوں کی ملکیت کسی اور کے نام پر رکھنا بے نامی ہے، بے نامی اثاثے رکھنے پر 5 سال قید ہوسکتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کے دوران شبر زیدی نے کہا کہ بڑی کمپنیوں سمیت پاکستان کے 300 بڑے ٹیکس دہندگان ملک کے مجموعی ٹیکس محاصل کا 80 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

صدر مملکت کے دستخط کے بعد ملک بھر میں ایمنسٹی اسکیم نافذ
اسکیم کے تحت اندرون ملک غیر منقولہ جائیداد پر 4 فیصد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کا حصہ پانچ سے چھ فی صد ہے۔ اعزازی چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار ارب روپے سے اوپر رکھا ہے۔
علاوہ ازیں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اثاثہ جات ڈکلیریشن بھی ایمنسٹی اسکیم ہی ہے جس کا پاکستان کو فائدہ ہوگا، اسی ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے ان ڈیکلیئرڈ اکانومی ڈیکلیئرڈ ہوگی۔
خیال رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نےاثاثہ جات ظاہر کرنے پر ٹیکس ایمنسٹی کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگیا۔
اس اسکیم سے 30 جون 2019 تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے تاہم 30 جون 2020 تک بھی جرمانہ ادا کر کے کالا دھن سفید کیا جا سکے گا۔
اسکیم کا اطلاق 30 جون 2018 تک کی غیر اعلانیہ سیلز، بے نامی اثاثہ جات یا اخراجات پر ہوگا۔ جائیداد یا اثاثوں سے متعلق زیر التوا مقدمات ، ہیرے جواہرات، سونے اور پرائز بانڈز پر اسکیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔
اندرون ملک غیر منقولہ جائیداد پر ایف بی آر کے مقررہ ریٹ سے ڈیڑھ گنا زیادہ قیمت پر 1.5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا جبکہ بیرون ملک منقولہ جائیداد پر 6 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

تبصرے
Loading...

اس ویب سائٹ پر آپ کے تجربے کو بہتر اور سہل بنانے کے لیے کوکیز استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر آپ کوکیز کے استعمال سے مطمئن ہیں تو قبول ہے کہ بٹن پر کلک کیجئے قبول ہے