چار طبقات

5 (100%) 1 vote

آسیہ مسیح کیس میں چار طبقات ایسے ہیں جو اس سے براہ راست منسلک ہوئے۔ ان چاروں گروہوں کی نفسیات الگ الگ ہے۔ اس مضمون میں انہی گروہوں پر بات کی جائے گی۔

لبرل: بظاہر لگتا ہے کہ لبرل اس سارے معاملے میں سب سے خوش طبقہ رہا ہے اور کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔ لبرلز کی خواہش تھی کہ آسیہ مسیح کو سزا نہ ہو۔ تاہم اس کیس میں لبرلز کے لئے اصل خبر یہ ہے کہ 295C کہیں نہیں جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پہلے بارہ صفحات اسی شق کے حق میں ہیں۔ واضح لکھا گیا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہی ہے اور یہی رہے گی۔ آسیہ مسیح کے بچ جانے کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ مجرم ثابت نہیں ہوئی۔ اگر وہ مجرم ثابت ہوتی تو اس وقت اس کی پھانسی کی تیاریاں ہو رہی ہوتیں۔

مذہبی طبقہ: یہ طبقہ بہت حد تک بدقسمت ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے اس کے لئے اچھی خبریں نہیں آرہیں۔ اس معاملے میں بھی اس گروہ نے خود کو پسی میں چند میٹر مزید گرا لیا ہے۔ دراصل اس طبقے میں دو خامیاں ایسی ہیں جو اس کے لئے انتہائی مضر ہیں اور انہی دو خامیوں کو یہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ پہلی خامی یہ کہ ان کے ہاں منطقی سوچ کو برا سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا انداز فکر بہت حد تک جذباتی ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جذباتی فکر معاشرے کے چند لاابالی نوجوانوں کو تو متاثر کرسکتی ہے لیکن اکثریت کو نہیں۔ ان کی ناکامی کی دوسری وجہ ان کی مسلک پرستی ہے۔ محرم، ربیع الاول اور چاند کے موضوع پر یہی لوگ آپس میں سینگ پھنسائے نظر آئیں گے۔ اس موقع پر بھی کمان بریلوی طبقے کے ہاتھ نظر آتی ہے اور دیگر مسالک کے لوگ فیس بک پر ہی نظر آرہے ہیں اور وہاں بھی اپنے غیر منطقی طرز فکر کے باعث فیصلے کی کمزوریاں عیاں کرنے قاصر نظر آتے ہیں

تحریک انصاف: تحریک انصاف کو گزشتہ دو برسوں میں ثاقب نثار کی طرف سے عمدہ خبریں ملیں ہیں۔ یہ چیف جسٹس ہی ہیں جن کی وجہ سے نواز شریف جیسے گھاگ سیاست دان کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن چند دنوں سے صورتحال مختلف ہے۔ سواتی کے معاملے پر چیف جسٹس کا نوٹس اور پھر آئی جی کے تبادلے میں مخالفت کے باعث تحریک انصاف میں بے چینی پائی جاتی تھی۔ آسیہ مسیح کیس کے سلسلے میں بھی کافی دیر تک یہ لوگ مخمصے کا شکار رہے کہ اس کی حمایت کریں یا نہیں لیکن شام کے وقت عمران خان کی تقریر نے صورتحال واضح کردی۔ اس کے بعد سے تحریک انصاف کے حامیوں کی غالب اکثریت پوری قوت سے حکومت اور چیف جسٹس کا دفاع کررہی۔

منافقین: یہ گروہ دنیا کے ہر کونے اور زمانے میں موجود رہتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ ان کا بھی چہرہ کالک سے اٹا نظر آتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں عمران خان اور ثاقب نثار کی شکل سے نفرت ہے۔ اس میں جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور ن لیگ کے لوگ شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حلفے نامے کے مسئلے پر ن لیگ کی مشکوک حرکتوں کا دفاع کرتے نظر آتے تھے لیکن اب ایک عدالتی فیصلے کی بنیاد پر عمران خان اور ثاقب نثار کو گالیاں دے رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے تک یہ لبرل تھے اور آج عاشق رسول بن چکے ہیں۔ اس کایا کلپ کے پیچھے حب دین نہیں بلکہ منافقت ہے جس کا مظاہرہ یہ لوگ سوشل میڈیا پر کررہے ہیں۔

اب اس میں سے کون سے طبقے میں ہیں۔ یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے

تبصرے
Loading...

اس ویب سائٹ پر آپ کے تجربے کو بہتر اور سہل بنانے کے لیے کوکیز استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر آپ کوکیز کے استعمال سے مطمئن ہیں تو قبول ہے کہ بٹن پر کلک کیجئے قبول ہے